جدائی کی پہلی رات
Published 13 October 2026
آنکھ بوجھل ہے
مگر نیند نہیں آتی ہے
میری گردن میں حمائل تری بانہیں جو نہیں
کسی کروٹ بھی مجھے چین نہیں پڑتا ہے
سرد پڑتی ہوئی رات
مانگنے آئی ہے پھر مجھ سے
ترے نرم بدن کی گرمی
اور دریچوں سے جھجکتی ہوئی آہستہ ہوا
کھوجتی ہے مرے غم خانے میں
تیری سانسوں کی گلابی خوشبو!
میرا بستر ہی نہیں
دل بھی بہت خالی ہے
اک خلا ہے کہ مری روح میں دہشت کی طرح اترا ہے
تیرا ننھا سا وجود
کیسے اس نے مجھے بھر رکھا تھا
ترے ہوتے ہوئے دنیا سے تعلق کی ضرورت ہی نہ تھی
ساری وابستگیاں تجھ سے تھیں
تو مری سوچ بھی، تصویر بھی اور بولی بھی
میں تری ماں بھی، تری دوست بھی ہمجولی بھی
تیرے جانے پہ کھلا
لفظ ہی کوئی مجھے یاد نہیں
بات کرنا ہی مجھے بھول گیا!
تو مری روح کا حصہ تھا
مرے چاروں طرف
چاند کی طرح سے رقصاں تھا مگر
کس قدر جلد تری ہستی نے
مرے اطراف میں سورج کی جگہ لے لی ہے
اب ترے گرد میں رقصندہ ہوں!
وقت کا فیصلہ تھا
ترے فردا کی رفاقت کے لیے
میرا امروز اکیلا رہ جائے
مرے بچے، مرے لال
فرض تو مجھ کو نبھانا ہے مگر
دیکھ کہ کتنی اکیلی ہوں میں!
About Parveen Shakir (پروین شاکر)
پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔