Prof. Syed Mujahid Sajjad

پورا دکھ اور آدھا چاند

Parveen Shakir

Published 13 October 2026

پورا دکھ اور آدھا چاند

ہجر کی شب اور ایسا چاند

دن میں وحشت بہل گئی

رات ہوئی اور نکلا چاند

کس مقتل سے گزرا ہوگا

اتنا سہما سہما چاند

یادوں کی آباد گلی میں

گھوم رہا ہے تنہا چاند

میری کروٹ پر جاگ اٹھے

نیند کا کتنا کچا چاند

میرے منہ کو کس حیرت سے

دیکھ رہا ہے بھولا چاند

اتنے گھنے بادل کے پیچھے

کتنا تنہا ہوگا چاند

آنسو روکے نور نہائے

دل دریا تن صحرا چاند

اتنے روشن چہرے پر بھی

سورج کا ہے سایا چاند

جب پانی میں چہرہ دیکھا

تو نے کس کو سوچا چاند

برگد کی اک شاخ ہٹا کر

جانے کس کو جھانکا چاند

بادل کے ریشم جھولے میں

بھور سمے تک سویا چاند

رات کے شانے پر سر رکھے

دیکھ رہا ہے سپنا چاند

سوکھے پتوں کے جھرمٹ پر

شبنم تھی یا ننھا چاند

ہاتھ ہلا کر رخصت ہوگا

اس کی صورت ہجر کا چاند

صحرا صحرا بھٹک رہا ہے

اپنے عشق میں سچا چاند

رات کے شاید ایک بجے ہیں

سوتا ہوگا میرا چاند

About Parveen Shakir (پروین شاکر)

پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔

Read all poetry by Parveen Shakir

More Urdu poetry by Parveen Shakir