Prof. Syed Mujahid Sajjad

ہوا جام صحت تجویز کرتی ہے

Parveen Shakir

پاکستانی ادب-1994

Published 13 October 2026

مجھے معلوم تھا

یہ دن بھی دکھ کی کوکھ سے پھوٹا ہے

میری ماتمی چادر

نہیں تبدیل ہوگی آج کے دن بھی

جو راکھ اڑتی تھی خوابوں کی بدن میں

یوں ہی آشفتہ رہے گی

اور اداسی کی یہی صورت رہے گی

میں اپنے سوگ میں ماتم کناں

یوں سر بہ زانو رات تک بیٹھی رہوں گی

اور مرے خوابوں کا پرسہ آج بھی کوئی نہیں دے گا

مگر یہ کون ہے

جو یوں مجھے باہر بلاتا ہے

بڑی نرمی سے کہتا ہے

کہ اپنے حجرہ غم سے نکل کر باغ میں آؤ

ذرا باہر تو دیکھو

دور تک سبزہ بچھا ہے

اور ہری شاخوں پہ نارنجی شگوفے مسکراتے ہیں

ملائم سبز پتوں پر پڑی شبنم

سنہری دھوپ میں ہیرے کی صورت جگمگاتی ہے

درختوں میں چھپی ندی

بہت دھیمے سروں میں گنگناتی ہے

چمکتے زرد پھولوں سے لدی ننھی پہاڑی کے عقب میں

نقرئی چشمہ خوشی سے کھلکھلاتا ہے

پرند خوش گلو

شاخ شگفتہ پر چہکتا ہے

گھنے جنگل میں بارش کا غبار سبز

سطح شیشۂ دل پر

ملائم انگلیوں سے مرحبا کے لفظ لکھتا ہے

کوئی آتا ہے

آ کر چادر غم کو بڑی آہستگی سے

میرے شانوں سے ہٹا کر

سات رنگوں کا دوپٹہ کھول کر مجھ کو اڑاتا ہے

میں کھل کر سانس لیتی ہوں

مرے اندر

کوئی پیروں میں گھنگھرو باندھتا ہے

رقص کا آغاز کرتا ہے

مرے کانوں کے آویزوں کو یہ کس نے چھوا

جس سے لویں پھر سے گلابی ہو گئی ہیں

کوئی سرگوشیوں میں پھر سے میرا نام لیتا ہے

فضا کی نغمگی آواز دیتی ہے

ہوا جام صحت تجویز کرتی ہے

About Parveen Shakir (پروین شاکر)

پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔

Read all poetry by Parveen Shakir

More Urdu poetry by Parveen Shakir