کچھ خبر لائی تو ہے باد بہاری اس کی
Published 13 October 2026
کچھ خبر لائی تو ہے باد بہاری اس کی
شاید اس راہ سے گزرے گی سواری اس کی
میرا چہرہ ہے فقط اس کی نظر سے روشن
اور باقی جو ہے مضمون نگاری اس کی
آنکھ اٹھا کر جو روادار نہ تھا دیکھنے کا
وہی دل کرتا ہے اب منت و زاری اس کی
رات کی آنکھ میں ہیں ہلکے گلابی ڈورے
نیند سے پلکیں ہوئی جاتی ہیں بھاری اس کی
اس کے دربار میں حاضر ہوا یہ دل اور پھر
دیکھنے والی تھی کچھ کارگزاری اس کی
آج تو اس پہ ٹھہرتی ہی نہ تھی آنکھ ذرا
اس کے جاتے ہی نظر میں نے اتاری اس کی
عرصۂ خواب میں رہنا ہے کہ لوٹ آنا ہے
فیصلہ کرنے کی اس بار ہے باری اس کی
About Parveen Shakir (پروین شاکر)
پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔