Prof. Syed Mujahid Sajjad

پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون

Parveen Shakir

Published 13 October 2026

پا بہ گل سب ہیں رہائی کی کرے تدبیر کون

دست بستہ شہر میں کھولے مری زنجیر کون

میرا سر حاضر ہے لیکن میرا منصف دیکھ لے

کر رہا ہے میری فرد جرم کو تحریر کون

آج دروازوں پہ دستک جانی پہچانی سی ہے

آج میرے نام لاتا ہے مری تعزیر کون

کوئی مقتل کو گیا تھا مدتوں پہلے مگر

ہے در خیمہ پہ اب تک صورت تصویر کون

میری چادر تو چھنی تھی شام کی تنہائی میں

بے ردائی کو مری پھر دے گیا تشہیر کون

سچ جہاں پابستہ ملزم کے کٹہرے میں ملے

اس عدالت میں سنے گا عدل کی تفسیر کون

نیند جب خوابوں سے پیاری ہو تو ایسے عہد میں

خواب دیکھے کون اور خوابوں کو دے تعبیر کون

ریت ابھی پچھلے مکانوں کی نہ واپس آئی تھی

پھر لب ساحل گھروندا کر گیا تعمیر کون

سارے رشتے ہجرتوں میں ساتھ دیتے ہیں تو پھر

شہر سے جاتے ہوئے ہوتا ہے دامن گیر کون

دشمنوں کے ساتھ میرے دوست بھی آزاد ہیں

دیکھنا ہے کھینچتا ہے مجھ پہ پہلا تیر کون

About Parveen Shakir (پروین شاکر)

پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔

Read all poetry by Parveen Shakir

More Urdu poetry by Parveen Shakir