رکنے کا سمے گزر گیا ہے
انکار
Published 13 October 2026
رکنے کا سمے گزر گیا ہے
جانا ترا اب ٹھہر گیا ہے
رخصت کی گھڑی کھڑی ہے سر پر
دل کوئی دو نیم کر گیا ہے
ماتم کی فضا ہے شہر دل میں
مجھ میں کوئی شخص مر گیا ہے
بجھنے کو ہے پھر سے چشم نرگس
پھر خواب صبا بکھر گیا ہے
بس ایک نگاہ کی تھی اس نے
سارا چہرہ نکھر گیا ہے
About Parveen Shakir (پروین شاکر)
پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔