ناٹک
Published 13 October 2026
رت بدلی تو بھنوروں نے تتلی سے کہا
آج سے تم آزاد ہو
پروازوں کی ساری سمتیں تمہارے نام ہوئیں
جاؤ
جنگل کی مغرور ہوا کے ساتھ اڑو
بادل کے ہم راہ ستارے چھو آؤ
خوشبو کے بازو تھامو اور رقص کرو
رقص کرو
کہ اس موسم کے سورج کی کرنوں کا تاج تمہارے سر ہے
لہراؤ
کہ ان راتوں کا چاند تمہاری پیشانی پر اپنے ہاتھ سے دعا لکھے گا
گاؤ
ان لمحوں کی ہوائیں تم کو تمہارے گیتوں پر سنگیت دیں گی
پتے کڑے بجائیں گے
اور پھولوں کے ہاتھوں میں دف ہوگا
تتلی معصومانہ حیرت سے سرشار
سیہ شاخوں کے حلقے سے نکلی
صدیوں کے جکڑے ہوئے ریشمی پر پھیلائے اور اڑنے لگی
کھلی فضا کا ذائقہ چکھا
نرم ہوا کا گیت سنا
ان دیکھے کہساروں کی قامت ناپی
روشنیوں کا لمس پیا
خوشبو کے ہر رنگ کو چھو کر دیکھا
لیکن رنگ ہوا اور خوشبو کا وجدان ادھورا تھا
کہ رقص کا موسم ٹھہر گیا
رت بدلی
اور سورج کی کرنوں کا تاج پگھلنے لگا
چاند کے ہاتھ دعا کے حرف ہی بھول گئے
ہوا کے لب برفیلے سموں میں نیلے پڑ کر اپنی صدائیں کھو بیٹھے
پتوں کی بانہوں کے سر بے رنگ ہوئے
اور تنہا رہ گئے پھولوں کے ہاتھ
برف کی لہر کے ہاتھوں تتلی کو لوٹ آنے کا پیغام گیا
بھنورے شبنم کی زنجیریں لے کر دوڑے
اور بے چین پروں میں ان چکھی پروازوں کی آشفتہ پیاس جلا دی
اپنے کالے ناخونوں سے
تتلی کے پر نوچ کے بولے
احمق لڑکی
گھر واپس آ جاؤ
ناٹک ختم ہوا
خواتین کا عالمی سال
About Parveen Shakir (پروین شاکر)
پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔