Prof. Syed Mujahid Sajjad

خود سے ملنے کی فرصت کسے تھی

Parveen Shakir

خوشبو

Published 13 October 2026

اپنی پندار کی کرچیاں

چن سکوں گی

شکستہ اڑانوں کے ٹوٹے ہوئے پر سمیٹوں گی

تجھ کو بدن کی اجازت سے رخصت کروں گی

کبھی اپنے بارے میں اتنی خبر ہی نہ رکھی تھی

ورنہ بچھڑنے کی یہ رسم کب کی ادا ہو چکی ہوتی

مرا حوصلہ

اپنے دل پر بہت قبل ہی منکشف ہو گیا ہوتا

لیکن یہاں

خود سے ملنے کی فرصت کسے تھی!

About Parveen Shakir (پروین شاکر)

پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔

Read all poetry by Parveen Shakir

More Urdu poetry by Parveen Shakir