Prof. Syed Mujahid Sajjad

سبز موسم کی خبر لے کے ہوا آئی ہو

Parveen Shakir

Published 13 October 2026

سبز موسم کی خبر لے کے ہوا آئی ہو

کام پت جھڑ کے اسیروں کی دعا آئی ہو

لوٹ آئی ہو وہ شب جس کے گزر جانے پر

گھاٹ سے پائلیں بجنے کی صدا آئی ہو

اسی امید میں ہر موج ہوا کو چوما

چھو کے شاید مرے پیاروں کی قبا آئی ہو

گیت جتنے لکھے ان کے لیے اے موج صبا

دل یہی چاہا کہ تو ان کو سنا آئی ہو

آہٹیں صرف ہواؤں کی ہی دستک نہ بنیں

اب تو دروازوں پہ مانوس صدا آئی ہو

یوں سر عام کھلے سر میں کہاں تک بیٹھوں

کسی جانب سے تو اب میری ردا آئی ہو

جب بھی برسات کے دن آئے یہی جی چاہا

دھوپ کے شہر میں بھی گھر کے گھٹا آئی ہو

تیرے تحفے تو سب اچھے ہیں مگر موج بہار

اب کے میرے لیے خوشبوئے حنا آئی ہو

About Parveen Shakir (پروین شاکر)

پروین شاکر (1952–1994) اردو کی ممتاز شاعرہ تھیں، جو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ خوشبو، صد برگ، خود کلامی، انکار اور ماہِ تمام ان کے شعری مجموعے ہیں، جبکہ کفِ آئینہ بعد از وفات شائع ہوئی۔ ان کی غزل عورت کے جذبات اور جدید حسیت کا انوکھا امتزاج ہے، جو اردو شاعری میں انہیں ایک الگ مقام دیتا ہے۔

Read all poetry by Parveen Shakir

More Urdu poetry by Parveen Shakir