رقصِ عشق
Published 8 October 2026
ہوا کے دوش پر جیسے سمندر رقص کرتا ہے
زمین دل پہ جذبوں کا سخن ور رقص کرتا ہے
فنا کی جستجو میں زندگی بھر در بدر ہو کر
کوئی آب حیات عشق پی کر رقص کرتا ہے
خیال دنیا داری کی کشش اور قید سے باہر
لگن میں ڈوب جائے تب قلندر رقص کرتا ہے
جو مثل قیس صحرا میں نکل جائے جنوں لے کر
وہ کاسہ ہاتھ میں پکڑے برابر رقص کرتا ہے
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تاج و تخت کی خاطر
بھلا کر غیرت شاہی سکندر رقص کرتا ہے
کبھی یہ تخت چھڑوائے کبھی تیشے بھی چلوائے
کبھی آشفتگی میں عشق شب بھر رقص کرتا ہے
اگرچہ دونوں انساں ہیں مگر تقسیم تو دیکھیں
براہمن حکم دیتا ہے تو شودر رقص کرتا ہے
کسی کے ماس کو یہ عشق جلتی آگ پر رکھے
کبھی دریا میں اک کچے گھڑے پر رقص کرتا ہے
کبھی رب کی اطاعت میں چھری کی زد میں آ جائے
کبھی عاشق یہاں آتش کے اندر رقص کرتا ہے
کسی کی جیت پر بھی زندگی آنسو بہاتی ہے
کسی کی ہار پر اُس کا مقدر رقص کرتا ہے
انا الحق کا کبھی نعرہ کبھی ہے عشق سولی پر
برہنہ سر کبھی نوک سناں پر رقص کرتا ہے
خمیدہ سر ہو کوئی سامنے جب اپنے ساقی کے
خمستاں جھومتا ہے اور ساغر رقص کرتا ہے
جو دل میں عشق احمد (ﷺ) ہو زباں پر لا الہ انجم
مقابل ہو اگر پتھر تو پتھر رقص کرتا ہے
About Ghazala Anjum (غزالہ انجم)
غزالہ انجم اردو کی شاعرہ اور نقاد ہیں۔ مجاہد سجاد کی شاعری پر ان کا تحقیقی مقالہ بھی شائع ہو چکا ہے۔
More Urdu poetry by Ghazala Anjum
- زندگی کے سبھی سودے نہیں پورے ہوتے (Ghazal)