زندگی کے سبھی سودے نہیں پورے ہوتے
Published 9 October 2026
زندگی کے سبھی سودے نہیں پورے ہوتے
خاک پر سائے ہی کچھ ایسے نہیں پورے ہوتے
ہم کہ پوشاکِ مروّت میں ہیں لپٹے ہوئے میں
ہم سے ہجرت کے تقاضے نہیں پورے ہوتے
زندگی ہم نے گزاری ہے بندھن ہاتھوں میں
ورنہ ہم لوگ بھی آدھے نہیں، پورے ہوتے
ہم رہانی کے اصولوں سے کہاں واقف ہیں
اُس کے دشت میں گم گشتہ صدا کی صورت
ہم محبت کی ہمایت میں مگن رہتے ہیں
سو عداوت کے خرائے نہیں پورے ہوتے
روزِ وصل جاتا ہے دن، رات اُتر آتی ہے
زندگی! تیرے دلاوے نہیں پورے ہوتے
کوئی کیسے تیری تصویر بنا سکتا ہے
محسنِ بے مثل کے جلوے نہیں پورے ہوتے
About Ghazala Anjum (غزالہ انجم)
غزالہ انجم اردو کی شاعرہ اور نقاد ہیں۔ مجاہد سجاد کی شاعری پر ان کا تحقیقی مقالہ بھی شائع ہو چکا ہے۔
More Urdu poetry by Ghazala Anjum
- رقصِ عشق (Ghazal)