دل ہے پہلو میں تو پیدا شیوۂ ترکانہ کر
کلیاتِ ظفر علی خان
Published 14 October 2026
دل ہے پہلو میں تو پیدا شیوۂ ترکانہ کر
جور ہفت افلاک کے ہوتے رہیں پروا نہ کر
غم کو خود آکر بہا جائے گی موج سرور
دیکھتا کیا ہے اٹھ اور فکر مے و پیمانہ کر
دعویٔ الفت جتا کر مفت میں رسوا نہ ہو
دار پر چڑھنے سے پہلے راز عشق افشا نہ کر
ظرف نیساں چاہتی ہے قلزم آشامی تری
برگ گل کی طرح شبنم کے لئے ترسا نہ کر
کام ابراہیمیوں کا ہے کہ کھیلیں آگ سے
کود پڑ شعلوں میں خوف انجام کا اصلا نہ کر
لے کے نام اللہ کا طوفاں میں کشتی ڈال دے
خوف بے پایانیٔ دریائے موج افزا نہ کر
خود عمل تیرا ہے صورت گر تری تقدیر کا
شکوہ کرنا ہو تو اپنا کر مقدر کا نہ کر
سایۂ شمشیر میں پوشیدہ جنت ہے مگر
ناکسوں کے سامنے اس بھید کا چرچا نہ کر
About Zafar Ali Khan (ظفر علی خان)
ظفر علی خان (1873 – 1956) صحافی، سیاست دان اور شاعر تھے۔ انھوں نے اخبار زمیندار جاری کیا اور تحریکِ آزادی میں حصہ لیا۔ بہارستان ان کے کلام کا مجموعہ ہے۔