Prof. Syed Mujahid Sajjad

یہ مقناطیس کی دعوت تھی آہن کیسے رد کرتا

ظفر علی خان

کلیاتِ ظفر علی خان

Published 14 October 2026

یہ مقناطیس کی دعوت تھی آہن کیسے رد کرتا

میں کلکتہ سے رخصت ہو کے سیدھا کانپور آیا

نظر آئے رضاکاران نیلی پوش صف در صف

مرے دل میں سرور اترا مری آنکھوں میں نور آیا

سنائی داستاں لاہور اور اس کے شہیدوں کی

تو میری پیشوائی کے لئے شور نشور آیا

سیہ مستی کی دیتا ہوں صلا رندان مشرق کو

خمستان عرب کے نشہ میں ہو کر میں چور آیا

کیا افسانہ دنیا کا سپرد خامہ جب میں نے

تو افسوں دین قیم کا نظر بین السطور آیا

مسلمانوں کی جمعیت سے ٹکرانا نہیں آساں

وہ ٹکرائیں تو سمجھو ان کی عقلوں میں فتور آیا

خدا کی حمد پیغمبر کی مدح اسلام کے قصے

مرے مضموں میں جب سے شعر کہنے کا شعور آیا

About Zafar Ali Khan (ظفر علی خان)

ظفر علی خان (1873 – 1956) صحافی، سیاست دان اور شاعر تھے۔ انھوں نے اخبار زمیندار جاری کیا اور تحریکِ آزادی میں حصہ لیا۔ بہارستان ان کے کلام کا مجموعہ ہے۔

Read all poetry by Zafar Ali Khan

More Urdu poetry by Zafar Ali Khan