اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
Published 10 October 2026
اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں
کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانئ دل زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں
موسم زرد میں اک دل کو بچاؤں کیسے ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں
اب کوئی کیا مرے قدموں کے نشاں ڈھونڈے گا تیز آندھی میں تو خیمہ بھی اکھڑ جاتے ہیں
شغل ارباب ہنر پوچھتے کیا ہو کہ یہ لوگ پتھروں میں بھی کبھی آئنے جڑ جاتی ہیں
سوچ کا آئنہ دھندلا ہو تو پھر وقت کے ساتھ چاند چہروں کے خد و خال بگڑ جاتے ہیں
شدت غم میں بھی زندہ ہوں تو حیرت کیسی کچھ دیئے تند ہواؤں سے بھی لڑ جاتے ہیں
وہ بھی کیا لوگ ہیں محسنؔ جو وفا کی خاطر خود تراشیدہ اصولوں پہ بھی اڑ جاتے ہیں
About Mohsin Naqvi (محسن نقوی)
محسن نقوی (1947–1996) پاکستان کے معروف اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کلام غزل، نظم اور مرثیہ تینوں اصناف پر محیط ہے اور اپنے دلکش اسلوب کی وجہ سے اردو ادب کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Mohsin Naqvi
- اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر (Ghazal)
- یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی (Ghazal)
- اتنی مدت بعد ملے ہو (Ghazal)
- ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی (Ghazal)