محسن نقوی
Mohsin Naqvi: Urdu poetry
محسن نقوی (1947–1996) پاکستان کے معروف اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کلام غزل، نظم اور مرثیہ تینوں اصناف پر محیط ہے اور اپنے دلکش اسلوب کی وجہ سے اردو ادب کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔
110 verses on this site
Nazm
وہ شاخ مہتاب کٹ چکی ہے
Ghazal
جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوا
Ghazal
معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا
Ghazal
کٹھن تنہائیوں سے کون کھیلا میں اکیلا
Ghazal
یہ کہہ گئے ہیں مسافر لٹے گھروں والے
Ghazal
بنام طاقت کوئی اشارہ نہیں چلے گا
Ghazal
سارے لہجے ترے بے زماں ایک میں
Ghazal
زخم کے پھول سے تسکین طلب کرتی ہے
Ghazal
پھر وہی میں ہوں وہی شہر بدر سناٹا
Ghazal
ہوائے ہجر میں جو کچھ تھا اب کے خاک ہوا
Ghazal
عجیب خوف مسلط تھا کل حویلی پر
Ghazal
لبوں پہ حرف رجز ہے زرہ اتار کے بھی
Ghazal
غزلوں کی دھنک اوڑھ مرے شعلہ بدن تو
Ghazal
خمار موسم خوشبو حد چمن میں کھلا
Ghazal
فضا کا حبس شگوفوں کو باس کیا دے گا
Ghazal
کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پر
Ghazal
جذبے کو زبان دے رہا ہوں
Ghazal
فن میں یہ معجزہ بھی پیدا کر
Nazm
مجھے اب ڈر نہیں لگتا
Nazm
یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں
Nazm
تھک جاؤ گی
Nazm
چلو چھوڑو
Nazm
بھول جاؤ مجھے
Nazm
بہت دنوں بعد
Nazm
تمہیں کس نے کہا تھا
Nazm
دسمبر مجھے راس آتا نہیں
Nazm
میں سوچتا ہوں
Nazm
خدشہ
Nazm
تمہیں کیا
Nazm
مرے لیے کون سوچتا ہے
Nazm
ایک نئے لفظ کی تخلیق
Nazm
دل دکھتا ہے
Nazm
میں نے اکثر خواب میں دیکھا
Nazm
ہوا اس سے کہنا
Nazm
آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا
Nazm
میرے کمرے میں اتر آئی خموشی پھر سے
Nazm
مرا ہونا نہ ہونا
Nazm
اس سمت نہ جانا جان مری
Nazm
مری گلی کے غلیظ بچو
Ghazal
اتنی مدت بعد ملے ہو
Ghazal
اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
Ghazal
یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی
Ghazal
ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
Ghazal
بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں
Ghazal
میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
Ghazal
اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا
Ghazal
جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
Ghazal
اگرچہ میں اک چٹان سا آدمی رہا ہوں
Ghazal
ترے بدن سے جو چھو کر ادھر بھی آتا ہے
Ghazal
آپ کی آنکھ سے گہرا ہے مری روح کا زخم (ردیف .. و)
Ghazal
اب وہ طوفاں ہے نہ وہ شور ہواؤں جیسا
Ghazal
نہ سماعتوں میں تپش گھلے نہ نظر کو وقف عذاب کر
Ghazal
زباں رکھتا ہوں لیکن چپ کھڑا ہوں
Ghazal
ایک پل میں زندگی بھر کی اداسی دے گیا
Ghazal
ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں
Ghazal
اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
Ghazal
عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے
Ghazal
ہم جو پہنچے سر مقتل تو یہ منظر دیکھا
Ghazal
اجڑ اجڑ کے سنورتی ہے تیرے ہجر کی شام
Ghazal
نیا ہے شہر نئے آسرے تلاش کروں
Ghazal
جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیا
Ghazal
اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
Ghazal
ہوا کا لمس جو اپنے کواڑ کھولتا ہے
Ghazal
بچھڑ کے مجھ سے یہ مشغلہ اختیار کرنا
Ghazal
میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
Ghazal
وہ دلاور جو سیہ شب کے شکاری نکلے
Ghazal
قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ
Ghazal
میں کل تنہا تھا خلقت سو رہی تھی
Nazm
مری اداسی کا زرد موسم
Ghazal
فن کار ہے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا
Ghazal
سانسوں کے اس ہنر کو نہ آساں خیال کر
Ghazal
خود اپنے دل میں خراشیں اتارنا ہوں گی
Poem
کربلا، اے سرخرو لوگوں کے سجدوں کی زمیں
Poem
تجھ کو دیارِ غیر کی آب و ہوا پسند
Poem
عاشور کا ڈھل جانا، صغراؑ کا وہ مرجانا
Poem
وہ حقیقی مردِ مومن، پیکرِ عزم و ثبات
Poem
ہر سُو رواں ہَوائے خمارِ طرب ہے آج
Poem
علی، جمالِ دو عالم علی امامِ زمن
Poem
جہانِ انسانیّت میں توحید کا مقدس خیال زہراؑ
Poem
لوحِ جہاں پہ فکر کی معراجِ فن کا نام
Poem
جہانِ عزمِ وفا کا پیکر
Poem
شبّیر کَربلا کی حکومت کا تاجدار
Poem
زینبؑ، نبیؐ کا ناز، اِمامت کی آبرُو
Poem
قدم قدم پر چراغ ایسے جلا گئی ہے علیؑ کی بیٹی
Poem
حُسین کی دکھ بھری کہانی تمام دنیا سُنا کرے گی
Poem
اِس نہج پہ انسان نے سوچا ہی کہاں ہے ؟
Poem
دل جب سے ہے خاکِ رہ قنبر کے برابر
Poem
مظلومؑ کے ہاتھوں پہ جو دم توڑ رہا ہے
Ghazal
موجِ بلا
Ghazal
دستِ الفت
Nazm
مجھ کو خبر تھی
Nazm
ملالِ زیست
Ghazal
عذابِ آوارگی
Nazm
دعا اور عقیدت
Nazm
عکسِ زیست
Nazm
چاند اور صحرا
Ghazal
دشتِ وفا
Ghazal
عکسِ خوشبو
Ghazal
دستِ صبا
Ghazal
سفرِ سفر
Ghazal
غمِ جاناں
Ghazal
شبِ ہجر
Ghazal
حسرتِ دید
Ghazal
قصہِ الفت
Ghazal
چراغِ آرزو
Ghazal
نوائے دل
Ghazal
زخمِ تمنا
Ghazal
ساحلِ آرزو
Nazm
روشنی کا سفر
Ghazal
وفا کا سفر