Prof. Syed Mujahid Sajjad

کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پر

Mohsin Naqvi

Published 10 October 2026

کس نے سنگ خامشی پھینکا بھرے بازار پر اک سکوت مرگ طاری ہے در و دیوار پر

تو نے اپنی زلف کے سائے میں افسانے کہے مجھ کو زنجیریں ملی ہیں جرأت اظہار پر

شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے جس طرح تازہ لہو چمکے نئی تلوار پر

سنگ دل احباب کے دامن میں رسوائی کے پھول میں نے دیکھا ہے نیا منظر فراز دار پر

اب کوئی تہمت بھی وجہ کرب رسوائی نہیں زندگی اک عمر سے چپ ہے ترے اصرار پر

میں سر مقتل حدیث زندگی کہتا رہا انگلیاں اٹھتی رہیں محسنؔ مرے کردار پر

About Mohsin Naqvi (محسن نقوی)

محسن نقوی (1947–1996) پاکستان کے معروف اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کلام غزل، نظم اور مرثیہ تینوں اصناف پر محیط ہے اور اپنے دلکش اسلوب کی وجہ سے اردو ادب کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔

Read all poetry by Mohsin Naqvi

More Urdu poetry by Mohsin Naqvi