Prof. Syed Mujahid Sajjad

کربلا، اے سرخرو لوگوں کے سجدوں کی زمیں

Mohsin Naqvi

Published 9 October 2026

کربلا، اے سرخرو لوگوں کے سجدوں کی زمیں

قِبلۂ فکر و نظر اے کعبہء اربابِ دیں

مرکزِ انوارِ حق، اے بوسہ گاہِ مرسلیں

تیرے ذرّوں سے دمکتی ہے دو عالم کی جبیں

ضَو، ستاروں میں ہے تیری مانگ بھرنے کے لیے

آسماں جھکتا ہے تجھ کو سجدہ کرنے کے لیے

کربلا، اے معجزاتِ ابنِ آدم کی کِتاب

محوِرِ مہر و مہِ انجم، جبینِ انقلاب

ظلمتِ باطل کو تُو ہے عرصۂ یوم الحساب

تیرے ہر ذرّے میں گم ہے کتنی صدیوں کا شباب

تُو نجاتِ ملّتِ بیضا کی وہ تحریر ہے

تیری مٹّی ابنِؑ مریمؑ کے لیے اکسیر ہے

کربلا، اے عظمتِ عرشِ معلّٰے کا حصار

اے زمیں پر آسمانوں کی اکیلی تاجدار

روز و شب کی گردشیں، تیرے بگولوں پر نثار

تیری مِٹّی چُومتا ہے صبر کا پروردگار

تیرہ بختوں کے لیے تو رہگرازِ طور ہے

تُو غرورِ اہرمن کی دسترس سے دُور ہے

کربلا اے نقطۂ تکمیلِ معیارِ حرم

ٹوٹ کر تجھ پر برستا ہے سدا ابرِ کرم

تجھ سے قائم ہے مزاجِ آدمیّت کا بھرم

تیری ویرانی ہے فردوسِ بریں سے محترم

تُو مقدّس ہے بہت اہلِ بصارت کے لیے

انبیاء آتے ہیں روز و شب زیارت کے لیے

کربلا اے اختتامِ رہگزارِ بندگی

تُو نے زندہ کر دیا پھر سے وقارِ بندگی

اے رگِ باطل پر ضربِ ذوالفقار بندگی

تُو جہاں میں ہے مزاجِ اقتدارِ بندگی

تُو فنا کی دھول میں نقشِ بقا انجام ہے

تُو فرشتوں پر بشر کی فوقیت کا نام ہے

کربلا، اے فاتح رسم و رہِ شام و سحر

تُو نے اپنی خاک سے پیدا کیے شمس و قمر

تُو اگلتی ہے سدا حق کے حسیں لعل و گہر

تیرا ہر ذرّہ ہے جبریلِؔ اَمیں کا ہمسفر

جب تری مٹّی شہیدوں کا بچھونا ہو گئی

جوہَری سب مر مٹے تجھ پر، تو ” سونا “ ہو گئی

یاد کر، پہلے تو کیا تھی ؟ اِک زمینِ امتحاں

ہر طرف گرمِ سفر تھیں زلزلوں کی ہچکیاں

خیمہ زن تھے چار سُو وحشی حذر کے کارواں

زندگی کیا، موت کی سانسیں اُکھڑتی تھیں یہاں

کس کے سجدے نے تیرے دل کو مصلّٰے کر دیا

کس نمازی نے تجھے چھُو کر معلّٰے کر دیا

وہ حسینؑ ابنِ علیؑ، تعبیرِ خوابِ انبیاؑ

صاحبِ ” اِسرارِ کن “ فخرِ دلِ ارض و سما

رونقِ بزمِ یقیں، صدرِ ہجومِ اَولیأ

وہ سخی وہ مسند آرائے سریرِ اِنَّمَا

جس کی برکت سے تُو ارضِ کبریا کہلائے گی

خاک تیری حشر تک ”خاکِ شفا“ کہلائے گی

کربلا تجھ پر، ترے سارے خزینوں پر سلام

تیرے سینے پر سجے دلکش نگینوں پر سلام

خون کے چھِیٹوں میں تر، اُجلی جبینوں پر سلام

عرش قامت، گلبدن صحرا نشینوں پر سلام

میں کہ دریوزہ گرِ دروازۂ حسنینؑ ہوں

کربؔلا، تیری زیارت کے لیے بے چین ہوں

About Mohsin Naqvi (محسن نقوی)

محسن نقوی (1947–1996) پاکستان کے معروف اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کلام غزل، نظم اور مرثیہ تینوں اصناف پر محیط ہے اور اپنے دلکش اسلوب کی وجہ سے اردو ادب کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔

Read all poetry by Mohsin Naqvi

More Urdu poetry by Mohsin Naqvi