شبّیر کَربلا کی حکومت کا تاجدار
Published 9 October 2026
شبّیر کَربلا کی حکومت کا تاجدار
وحدت مزاج، دوشِ نبوّت کا شہسوار
ہے جس کی ٹھوکروں میں خدائی کا اقتدار
جس کے گداگروں سے ہراساں ہے روزگار
جس نے زمیں کو عرش مقدّر بنادیا
ذرّوں کو آفتاب کا محور بنا دیا
وہ جس کی بندگی میں سمٹتی ہے داوری
کھولے دلوں پہ جس نے رموزِ دلاوری
لُٹ کر بھی کی ہے جس نے شریعت کی داوری
جس نے سمندروں کو سکھائی شناوری
وہ جس کا غم ہے ابر کی صورت تنا ہُوا
صحرا ہے رشکِ موجۂ کوثر بنا ہُوا
جس کی خزاں بہارِ گلستاں سے کم نہیں
جس کی جبیں لطافتِ قرآں سے کم نہیں
جس کا اصول حکمتِ یزداں سے کم نہیں
جس کی زمین، خلد کے ایواں سے کم نہیں
وہ جس کی پیاس منزلِ آبِ حیات ہے
وہ جس کا ذکر آج بھی وجہِ نجات ہے
وہ کہکشاں جبیں، وہ ذبیحِ فلک مقام
جس نے جبینِ عرش پہ لکھّا بشر کا نام
جس نے کیا ضمیرِ بقا میں سَدا قیام
جس کی عنایتوں کو سخاوت کرے سلام
نوکِ سناں کو رُتبۂ معراج بخش دے
ذرّوں کو جو فلک کا حسیں تاج بخش دے
کنکر کو دُر بنائے کہاں کوئی جوھری
ایجاد کی حُسینؑ نے یہ کیا کیمیا گری
بخشی ہے یوں بشر کو ملائک پہ برتری
بچّوں کو ایک پل میں بناتا گیا جَری
وہ جس نے شک کو حق کا قرینہ سِکھا دیا
جس نے بشر کو مر کے بھی جینا سِکھا دیا
جو میرِ کاروانِ مودّت ہے وہ حُسینؑ
جو رازدارِ کنزِ حقیقت ہے وہ حُسینؑ
جو مرکزِ نگاہِ مشیّت ہے وہ حُسینؑ
جو تاجدارِ ملکِ شریعت ہے وہ حُسینؑ
وہ جس کا عزم آپ ہی اپنی مثال ہے
جس کی ”نہیں “کو ” ہاں “ میں بدلنا محال ہے
مولاؑ! تو جی رہا ہے عجب اہتمام سے
سمجھے ہیں ہم خدا کو بھی تیرے کلام سے
کِرنیں وہ پھوٹتی ہیں سدا تیرے نام سے
کرتے ہیں تیرا ذکر سبھی اِحترام سے
پایا ہے وہ مقامِ ابد تیرے نام نے
آیا نہ پھر یزید کوئی تیرے سامنے
About Mohsin Naqvi (محسن نقوی)
محسن نقوی (1947–1996) پاکستان کے معروف اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کلام غزل، نظم اور مرثیہ تینوں اصناف پر محیط ہے اور اپنے دلکش اسلوب کی وجہ سے اردو ادب کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Mohsin Naqvi
- اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر (Ghazal)
- یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی (Ghazal)
- اتنی مدت بعد ملے ہو (Ghazal)
- ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی (Ghazal)