Prof. Syed Mujahid Sajjad

جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیا

Mohsin Naqvi

Published 10 October 2026

جگنو گہر چراغ اجالے تو دے گیا وہ خود کو ڈھونڈنے کے حوالے تو دے گیا

اب اس سے بڑھ کے کیا ہو وراثت فقیر کی بچوں کو اپنی بھیک کے پیالے تو دے گیا

اب میری سوچ سائے کی صورت ہے اس کے گرد میں بجھ کے اپنے چاند کو ہالے تو دے گیا

شاید کہ فصل سنگ زنی کچھ قریب ہے وہ کھیلنے کو برف کے گالے تو دے گیا

اہل طلب پہ اس کے لیے فرض ہے دعا خیرات میں وہ چند نوالے تو دے گیا

محسنؔ اسے قبا کی ضرورت نہ تھی مگر دنیا کو روز و شب کے دشالے تو دے گیا

About Mohsin Naqvi (محسن نقوی)

محسن نقوی (1947–1996) پاکستان کے معروف اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کلام غزل، نظم اور مرثیہ تینوں اصناف پر محیط ہے اور اپنے دلکش اسلوب کی وجہ سے اردو ادب کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔

Read all poetry by Mohsin Naqvi

More Urdu poetry by Mohsin Naqvi