یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں
Published 10 October 2026
یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں جب آنکھ میں خواب دمکتے تھے
جب دلوں میں داغ چمکتے تھے جب پلکیں شہر کے رستوں میں
اشکوں کا نور لٹاتی تھیں جب سانسیں اجلے چہروں کی
تن من میں پھول سجاتی تھیں جب چاند کی رم جھم کرنوں سے
سوچوں میں بھنور پڑ جاتے تھے جب ایک تلاطم رہتا تھا
اپنے بے انت خیالوں میں ہر عہد نبھانے کی قسمیں
خط خون سے لکھنے کی رسمیں جب عام تھیں ہم دل والوں میں
اب اپنے پھیکے ہونٹوں پر کچھ جلتے بجھتے لفظوں کے
یاقوت پگھلتے رہتے ہیں اب اپنی گم سم آنکھوں میں
کچھ دھول ہے بکھری یادوں کی کچھ گرد آلود سے موسم ہیں
اب دھوپ اگلتی سوچوں میں کچھ پیماں جلتے رہتے ہیں
اب اپنے ویراں آنگن میں جتنی صبحوں کی چاندی ہے
جتنی شاموں کا سونا ہے اس کو خاکستر ہونا ہے
اب یہ باتیں رہنے دیجے جس عمر میں قصے بنتے تھے
اس عمر کا غم سہنے دیجے اب اپنی اجڑی آنکھوں میں
جتنی روشن سی راتیں ہیں اس عمر کی سب سوغاتیں ہیں
جس عمر کے خواب خیال ہوئے وہ پچھلی عمر تھی بیت گئی
وہ عمر بتائے سال ہوئے اب اپنی دید کے رستے میں
کچھ رنگ ہے گزرے لمحوں کا کچھ اشکوں کی باراتیں ہیں
کچھ بھولے بسرے چہرے ہیں کچھ یادوں کی برساتیں ہیں
یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں
About Mohsin Naqvi (محسن نقوی)
محسن نقوی (1947–1996) پاکستان کے معروف اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کلام غزل، نظم اور مرثیہ تینوں اصناف پر محیط ہے اور اپنے دلکش اسلوب کی وجہ سے اردو ادب کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Mohsin Naqvi
- اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر (Ghazal)
- یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی (Ghazal)
- اتنی مدت بعد ملے ہو (Ghazal)
- ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی (Ghazal)