مرا ہونا نہ ہونا
Published 10 October 2026
مرا ہونا نہ ہونا منحصر ہے
ایک نقطے پر
وہ اک نقطہ
جو دو حرفوں کو آپس میں ملا کر
لفظ کی تشکیل کرتا ہے
وہ اک نقطہ سمٹ جائے تو
ہونے کا ہر اک امکاں
نہ ہونے تک کا سارا فاصلہ
پل بھر میں طے کر لے
وہی نقطہ بکھر جائے
تو ہر اک شے
نہ ہونے کے قفس کی تیلیوں کو توڑ کر رکھ دے
وہ ایک نقطہ مری آنکھوں میں اکثر
روشنی کے ساتھ رنگوں کو اگاتا ہے
مرے ادراک میں شبنم کی صورت
یا ستارے کی طرح لوح یقیں پر جگمگاتا ہے
وہی نقطہ مجھے تشکیک کے جنگل میں
جگنو بن کے منزل کی طرف رستہ دکھاتا ہے
مجھے اکثر بتاتا ہے
مرا ہونا نہ ہونے کا عمل سے
مرے ہونے کی بھی تکمیل ہوتی ہے
وہ اک نقطہ کہاں ہے
کون ہے
کس کے لبوں میں چھپ کے ہر اثبات کو
انکار میں تبدیل کرتا ہے
جو دو حرفوں کو آپس میں ملا کر لفظ کی تشکیل کرتا ہے
یہ نکتہ بھی اسی نقطے میں مضمر ہے
وہ ایک نقطہ کہ اب تک جس کے ہونے کا امیں ہوں میں
وہ افشا ہو تو میں سمجھوں
کہ ہوں بھی یا نہیں ہوں میں
About Mohsin Naqvi (محسن نقوی)
محسن نقوی (1947–1996) پاکستان کے معروف اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کلام غزل، نظم اور مرثیہ تینوں اصناف پر محیط ہے اور اپنے دلکش اسلوب کی وجہ سے اردو ادب کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔
More Urdu poetry by Mohsin Naqvi
- اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر (Ghazal)
- یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی (Ghazal)
- اتنی مدت بعد ملے ہو (Ghazal)
- ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی (Ghazal)