Prof. Syed Mujahid Sajjad

سارے لہجے ترے بے زماں ایک میں

Mohsin Naqvi

Published 10 October 2026

سارے لہجے ترے بے زماں ایک میں اس بھرے شہر میں رائیگاں ایک میں

وصل کے شہر کی روشنی ایک تو ہجر کے دشت میں کارواں ایک میں

بجلیوں سے بھری بارشیں زور پر اپنی بستی میں کچا مکاں ایک میں

حسرتوں سے اٹے آسماں کے تلے جلتی بجھتی ہوئی کہکشاں ایک میں

مجھ کو فارغ دنوں کی امانت سمجھ بھولی بسری ہوئی داستاں ایک میں

رونقیں شور میلے جھمیلے ترے اپنی تنہائی کا رازداں ایک میں

ایک میں اپنی ہی زندگی کا بھرم اپنی ہی موت پر نوحہ خواں ایک میں

اس طرف سنگ باری ہر اک بام سے اس طرف آئنوں کی دکاں ایک میں

وہ نہیں ہے تو محسنؔ یہ مت سوچنا اب بھٹکتا پھروں گا کہاں ایک میں

About Mohsin Naqvi (محسن نقوی)

محسن نقوی (1947–1996) پاکستان کے معروف اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کلام غزل، نظم اور مرثیہ تینوں اصناف پر محیط ہے اور اپنے دلکش اسلوب کی وجہ سے اردو ادب کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔

Read all poetry by Mohsin Naqvi

More Urdu poetry by Mohsin Naqvi