Prof. Syed Mujahid Sajjad

تمہیں کیا

Mohsin Naqvi

Published 10 October 2026

تمہیں کیا

زندگی جیسی بھی ہے

تم نے اس کے ہر ادا سے رنگ کی موجیں نچوڑی ہیں

تمہیں تو ٹوٹ کر چاہا گیا چہروں کے میلے میں

محبت کی شفق برسی تمہارے خال و خد پر

آئنے چمکے تمہاری دید سے

خوشبو تمہارے پیرہن کی ہر شکن سے

اذن لے کر ہر طرف وحشت لٹاتی تھی

تمہارے چاہنے والوں کے جھرمٹ میں

سبھی آنکھیں تمہارے عارض و لب کی کنیزیں تھیں

تمہیں کیا

تم نے ہر موسم کی شہ رگ میں انڈیلے ذائقے اپنے

تمہیں کیا

تم نے کب سوچا

کہ چہروں سے اٹی دنیا میں تنہا سانس لیتی

ہانپتی راتوں کے بے گھر ہم سفر

کتنی مشقت سے گریبان سحر کے چاک سیتے ہیں

تمہیں کیا

تم نے کب سوچا

کہ تنہائی کے جنگل میں

سیہ لمحوں کی چبھتی کرچیوں سے کون کھیلا ہے

تمہیں کیا

تم نے کب سوچا

کہ چہروں سے اٹی دنیا میں

کس کا دل اکیلا ہے

About Mohsin Naqvi (محسن نقوی)

محسن نقوی (1947–1996) پاکستان کے معروف اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کلام غزل، نظم اور مرثیہ تینوں اصناف پر محیط ہے اور اپنے دلکش اسلوب کی وجہ سے اردو ادب کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔

Read all poetry by Mohsin Naqvi

More Urdu poetry by Mohsin Naqvi