Prof. Syed Mujahid Sajjad

مرے لیے کون سوچتا ہے

Mohsin Naqvi

Published 10 October 2026

مرے لیے کون سوچتا ہے

جدا جدا ہیں مرے قبیلے کے لوگ سارے

جدا جدا سب کی صورتیں ہیں

سبھی کو اپنی انا کے اندھے کنویں کی تہ میں پڑے ہوئے

خواہشوں کے پنجر

ہوس کے ٹکڑے

حواس ریزے

ہراس کنکر تلاشنا ہیں

سبھی کو اپنے بدن کی شہ رگ میں

قطرہ قطرہ لہو کا لاوا انڈیلنا ہے

سبھی کو گزرے دنوں کے دریا کا دکھ

وراثت میں جھیلنا ہے

مرے لئے کون سوچتا ہے

سبھی کی اپنی ضرورتیں ہیں

مری رگیں چھلتی جراحت کو کون بخشے

شفا کی شبنم

مری اداسی کو کون بہلائے

کسی کو فرصت ہے مجھ سے پوچھے

کہ میری آنکھیں گلاب کیوں ہیں

مری مشقت کی شاخ عریاں پر

سازشوں کے عذاب کیوں ہیں

مری ہتھیلی پہ خواب کیوں ہیں

مرے سفر میں سراب کیوں ہیں

مرے لیے کون سوچتا ہے

سبھی کے دل میں کدورتیں ہیں

About Mohsin Naqvi (محسن نقوی)

محسن نقوی (1947–1996) پاکستان کے معروف اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کلام غزل، نظم اور مرثیہ تینوں اصناف پر محیط ہے اور اپنے دلکش اسلوب کی وجہ سے اردو ادب کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔

Read all poetry by Mohsin Naqvi

More Urdu poetry by Mohsin Naqvi