Prof. Syed Mujahid Sajjad

جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوا

Mohsin Naqvi

Published 10 October 2026

جب ہجر کے شہر میں دھوپ اتری میں جاگ پڑا تو خواب ہوا مری سوچ خزاں کی شاخ بنی ترا چہرہ اور گلاب ہوا

برفیلی رت کی تیز ہوا کیوں جھیل میں کنکر پھینک گئی اک آنکھ کی نیند حرام ہوئی اک چاند کا عکس خراب ہوا

ترے ہجر میں ذہن پگھلتا تھا ترے قرب میں آنکھیں جلتی ہیں تجھے کھونا ایک قیامت تھا ترا ملنا اور عذاب ہوا

بھرے شہر میں ایک ہی چہرہ تھا جسے آج بھی گلیاں ڈھونڈتی ہیں کسی صبح اسی کی دھوپ کھلی کسی رات وہی مہتاب ہوا

بڑی عمر کے بعد ان آنکھوں میں کوئی ابر اترا تری یادوں کا مرے دل کی زمیں آباد ہوئی مرے غم کا نگر شاداب ہوا

کبھی وصل میں محسنؔ دل ٹوٹا کبھی ہجر کی رت نے لاج رکھی کسی جسم میں آنکھیں کھو بیٹھے کوئی چہرہ کھلی کتاب ہوا

About Mohsin Naqvi (محسن نقوی)

محسن نقوی (1947–1996) پاکستان کے معروف اردو شاعر تھے، جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کا کلام غزل، نظم اور مرثیہ تینوں اصناف پر محیط ہے اور اپنے دلکش اسلوب کی وجہ سے اردو ادب کا سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔

Read all poetry by Mohsin Naqvi

More Urdu poetry by Mohsin Naqvi