Prof. Syed Mujahid Sajjad

وہی ہے شور ہائے و ہو، وہی ہجوم مرد و زن

جگر مراد آبادی

کلیاتِ جگر

Published 14 October 2026

وہی ہے شور ہائے و ہو، وہی ہجوم مرد و زن

مگر وہ حسن زندگی، مگر وہ جنت وطن

وہی زمیں، وہیں زماں، وہی مکیں، وہی مکاں

مگر سرور یک دلی، مگر نشاط انجمن

وہی ہے شوق نو بہ نو، وہی جمال رنگ رنگ

مگر وہ عصمت نظر، طہارت لب و دہن

ترقیوں پہ گرچہ ہیں، تمدن و معاشرت

مگر وہ حسن سادگی، وہ سادگی کا بانکپن

شراب نو کی مستیاں، کہ الحفیظ و الاماں

مگر وہ اک لطیف سا سرور بادۂ کہن

یہ نغمۂ حیات ہے کہ ہے اجل ترانہ سنج

یہ دور کائنات ہے کہ رقص میں ہے اہرمن

ہزار در ہزار ہیں اگرچہ رہبران ملک

مگر وہ پیر نوجواں، وہ ایک مرد صف شکن

وہی مہاتما وہی شہید امن و آشتی

پریم جس کی زندگی، خلوص جس کا پیرہن

وہی ستارے ہیں، مگر کہاں وہ ماہتاب ہند

وہی ہے انجمن، مگر کہاں وہ صدر انجمن

About Jigar Moradabadi (جگر مراد آبادی)

جگر مراد آبادی (1890 – 1960) اردو اور فارسی کے شاعر اور بیسویں صدی کے مقبول ترین غزل گو شعرا میں سے تھے۔ 1958 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔

Read all poetry by Jigar Moradabadi

More Urdu poetry by Jigar Moradabadi