جگر مراد آبادی
Jigar Moradabadi: Urdu poetry
جگر مراد آبادی (1890 – 1960) اردو اور فارسی کے شاعر اور بیسویں صدی کے مقبول ترین غزل گو شعرا میں سے تھے۔ 1958 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔
57 verses on this site
Nazm
وہی ہے شور ہائے و ہو، وہی ہجوم مرد و زن
Nazm
بنگال کی میں شام و سحر دیکھ رہا ہوں
Nazm
اپنا ہی سا اے نرگس مستانہ بنا دے
Nazm
وہ کب کے آئے بھی اور گئے بھی نظر میں اب تک سما رہے ہیں
Nazm
پہلے تو حسن عمل حسن یقیں پیدا کر
Nazm
آئی جب ان کی یاد تو آتی چلی گئی
Nazm
ساقی کی ہر نگاہ پہ بل کھا کے پی گیا
Ghazal
نیاز و ناز کے جھگڑے مٹائے جاتے ہیں
Ghazal
کثرت میں بھی وحدت کا تماشا نظر آیا
Ghazal
عشق لا محدود جب تک رہنما ہوتا نہیں
Ghazal
سب پہ تو مہربان ہے پیارے
Ghazal
اسے حال و قال سے واسطہ نہ غرض مقام و قیام سے
Ghazal
عشق میں لا جواب ہیں ہم لوگ
Ghazal
کیا برابر کا محبت میں اثر ہوتا ہے
Ghazal
لاکھوں میں انتخاب کے قابل بنا دیا
Ghazal
جہل خرد نے دن یہ دکھائے
Ghazal
اس عشق کے ہاتھوں سے ہرگز نہ مفر دیکھا
Ghazal
فکر منزل ہے نہ ہوش جادۂ منزل مجھے
Ghazal
شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئے
Ghazal
اے حسن یار شرم یہ کیا انقلاب ہے
Ghazal
برابر سے بچ کر گزر جانے والے
Ghazal
کوئی یہ کہہ دے گلشن گلشن
Ghazal
کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا
Ghazal
جان کر من جملۂ خاصان مے خانہ مجھے
Ghazal
وہ جو روٹھیں یوں منانا چاہیئے
Ghazal
سبھی انداز حسن پیارے ہیں
Ghazal
اگر نہ زہرہ جبینوں کے درمیاں گزرے
Ghazal
جہلِ خرد نے دن يہ دکھائے
Ghazal
بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میں
Ghazal
جو اب بھی نہ تکلیف فرمائیے گا
Ghazal
کسی صورت نمود سوز پنہانی نہیں جاتی
Ghazal
یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے
Ghazal
یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیا
Ghazal
جو طوفانوں میں پلتے جا رہے ہیں
Ghazal
داستان غم دل ان کو سنائی نہ گئی
Ghazal
کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچے
Ghazal
تجھی سے ابتدا ہے تو ہی اک دن انتہا ہوگا
Ghazal
آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھا
Ghazal
کبھی شاخ و سبزہ و برگ پر
Ghazal
وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ
Ghazal
نظر ملا کے مرے پاس آ کے لوٹ لیا
Ghazal
دل گیا رونق حیات گئی
Ghazal
دل کو سکون روح کو آرام آ گیا
Ghazal
عشق کو بے نقاب ہونا تھا
Ghazal
محبت میں یہ کیا مقام آ رہے ہیں
Ghazal
آنکھوں میں بس کے دل میں
Ghazal
اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس
Ghazal
شاعر فطرت ہوں
Ghazal
طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے
Ghazal
اللہ اگر توفیق نہ دے
Ghazal
دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں
Ghazal
دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد
Ghazal
کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے
Ghazal
آدمی آدمی سے ملتا ہے
Ghazal
ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
Ghazal
اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانا ہے
Ghazal
یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں