یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے
کلیاتِ جگر
Published 14 October 2026
یہ مصرع کاش نقش ہر در و دیوار ہو جائے
جسے جینا ہو مرنے کے لیے تیار ہو جائے
وہی مے خوار ہے جو اس طرح مے خوار ہو جائے
کہ شیشہ توڑ دے اور بے پیے سرشار ہو جائے
دل انساں اگر شائستہ اسرار ہو جائے
لب خاموش فطرت ہی لب گفتار ہو جائے
ہر اک بے کار سی ہستی بروئے کار ہو جائے
جنوں کی روح خوابیدہ اگر بیدار ہو جائے
سنا ہے حشر میں ہر آنکھ اسے بے پردہ دیکھے گی
مجھے ڈر ہے نہ توہین جمال یار ہو جائے
حریم ناز میں اس کی رسائی ہو تو کیوں کر ہو
کہ جو آسودہ زیر سایۂ دیوار ہو جائے
معاذ اللہ اس کی واردات غم معاذ اللہ
چمن جس کا وطن ہو اور چمن بے زار ہو جائے
یہی ہے زندگی تو زندگی سے خودکشی اچھی
کہ انساں عالم انسانیت پر بار ہو جائے
اک ایسی شان پیدا کر کہ باطل تھرتھرا اٹھے
نظر تلوار بن جائے نفس جھنکار ہو جائے
یہ روز و شب یہ صبح و شام یہ بستی یہ ویرانہ
سبھی بیدار ہیں انساں اگر بیدار ہو جائے
جگر مراد آبادی
About Jigar Moradabadi (جگر مراد آبادی)
جگر مراد آبادی (1890 – 1960) اردو اور فارسی کے شاعر اور بیسویں صدی کے مقبول ترین غزل گو شعرا میں سے تھے۔ 1958 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔