Prof. Syed Mujahid Sajjad

بنگال کی میں شام و سحر دیکھ رہا ہوں

جگر مراد آبادی

کلیاتِ جگر

Published 14 October 2026

بنگال کی میں شام و سحر دیکھ رہا ہوں

ہر چند کہ ہوں دور مگر دیکھ رہا ہوں

افلاس کی ماری ہوئی مخلوق سر راہ

بے گور و کفن خاک بہ سر دیکھ رہا ہوں

بچوں کا تڑپنا وہ بلکنا وہ سسکنا

ماں باپ کی مایوس نظر دیکھ رہا ہوں

انسان کے ہوتے ہوئے انسان کا یہ حشر

دیکھا نہیں جاتا ہے مگر دیکھ رہا ہوں

رحمت کا چمکنے کو ہے پھر نیر تاباں

ہونے کو ہے اس شب کی سحر دیکھ رہا ہوں

خاموش نگاہوں میں امنڈتے ہوئے جذبات

جذبات میں طوفان شرر دیکھ رہا ہوں

بیداریٔ احساس ہے ہر سمت نمایاں

بیتابئ ارباب نظر دیکھ رہا ہوں

انجام ستم اب کوئی دیکھے کہ نہ دیکھے

میں صاف ان آنکھوں سے مگر دیکھ رہا ہوں

صیاد نے لوٹا تھا عنادل کا نشیمن

صیاد کا جلتے ہوئے گھر دیکھ رہا ہوں

اک تیغ کی جنبش سی نظر آتی ہے مجھ کو

اک ہاتھ پس پردۂ در دیکھ رہا ہوں

About Jigar Moradabadi (جگر مراد آبادی)

جگر مراد آبادی (1890 – 1960) اردو اور فارسی کے شاعر اور بیسویں صدی کے مقبول ترین غزل گو شعرا میں سے تھے۔ 1958 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔

Read all poetry by Jigar Moradabadi

More Urdu poetry by Jigar Moradabadi