Prof. Syed Mujahid Sajjad

کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچے

جگر مراد آبادی

کلیاتِ جگر

Published 14 October 2026

کیا تعجب کہ مری روح رواں تک پہنچے

پہلے کوئی مرے نغموں کی زباں تک پہنچے

جب ہر اک شورش غم ضبط فغاں تک پہنچے

پھر خدا جانے یہ ہنگامہ کہاں تک پہنچے

آنکھ تک دل سے نہ آئے نہ زباں تک پہنچے

بات جس کی ہے اسی آفت جاں تک پہنچے

تو جہاں پر تھا بہت پہلے وہیں آج بھی ہے

دیکھ رندان خوش انفاس کہاں تک پہنچے

جو زمانے کو برا کہتے ہیں خود ہیں وہ برے

کاش یہ بات ترے گوش گراں تک پہنچے

بڑھ کے رندوں نے قدم حضرت واعظ کے لیے

گرتے پڑتے جو در پیر مغاں تک پہنچے

تو مرے حال پریشاں پہ بہت طنز نہ کر

اپنے گیسو بھی ذرا دیکھ کہاں تک پہنچے

ان کا جو فرض ہے وہ اہل سیاست جانیں

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

عشق کی چوٹ دکھانے میں کہیں آتی ہے

کچھ اشارے تھے کہ جو لفظ و بیاں تک پہنچے

جلوے بیتاب تھے جو پردۂ فطرت میں جگرؔ

خود تڑپ کر مری چشم نگراں تک پہنچے

جگر مراد آبادی

About Jigar Moradabadi (جگر مراد آبادی)

جگر مراد آبادی (1890 – 1960) اردو اور فارسی کے شاعر اور بیسویں صدی کے مقبول ترین غزل گو شعرا میں سے تھے۔ 1958 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔

Read all poetry by Jigar Moradabadi

More Urdu poetry by Jigar Moradabadi