Prof. Syed Mujahid Sajjad

دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی

کلیاتِ جگر

Published 14 October 2026

دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں

کتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں

دنیائے دل تباہ کئے جا رہا ہوں میں

صرف نگاہ و آہ کئے جا رہا ہوں میں

فرد عمل سیاہ کئے جا رہا ہوں میں

رحمت کو بے پناہ کئے جا رہا ہوں میں

ایسی بھی اک نگاہ کئے جا رہا ہوں میں

ذروں کو مہر و ماہ کئے جا رہا ہوں میں

مجھ سے لگے ہیں عشق کی عظمت کو چار چاند

خود حسن کو گواہ کئے جا رہا ہوں میں

دفتر ہے ایک معنئ بے لفظ و صوت کا

سادہ سی جو نگاہ کئے جا رہا ہوں میں

آگے قدم بڑھائیں جنہیں سوجھتا نہیں

روشن چراغ راہ کئے جا رہا ہوں میں

معصومئ جمال کو بھی جن پہ رشک ہے

ایسے بھی کچھ گناہ کئے جا رہا ہوں میں

تنقید حسن مصلحت خاص عشق ہے

یہ جرم گاہ گاہ کئے جا رہا ہوں میں

اٹھتی نہیں ہے آنکھ مگر اس کے روبرو

نادیدہ اک نگاہ کئے جا رہا ہوں میں

گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز

کانٹوں سے بھی نباہ کئے جا رہا ہوں میں

یوں زندگی گزار رہا ہوں ترے بغیر

جیسے کوئی گناہ کئے جا رہا ہوں میں

مجھ سے ادا ہوا ہے جگرؔ جستجو کا حق

ہر ذرے کو گواہ کئے جا رہا ہوں میں

جگر مراد آبادی

About Jigar Moradabadi (جگر مراد آبادی)

جگر مراد آبادی (1890 – 1960) اردو اور فارسی کے شاعر اور بیسویں صدی کے مقبول ترین غزل گو شعرا میں سے تھے۔ 1958 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔

Read all poetry by Jigar Moradabadi

More Urdu poetry by Jigar Moradabadi