Prof. Syed Mujahid Sajjad

کوئی یہ کہہ دے گلشن گلشن

جگر مراد آبادی

کلیاتِ جگر

Published 14 October 2026

کوئی یہ کہہ دے گلشن گلشن

لاکھ بلائیں ایک نشیمن

قاتل رہبر قاتل رہزن

دل سا دوست نہ دل سا دشمن

پھول کھلے ہیں گلشن گلشن

لیکن اپنا اپنا دامن

عشق ہے پیارے کھیل نہیں ہے

عشق ہے کار شیشہ و آہن

خیر مزاج حسن کی یارب

تیز بہت ہے دل کی دھڑکن

آ کہ نہ جانے تجھ بن کب سے

روح ہے لاشہ جسم ہے مدفن

آج نہ جانے راز یہ کیا ہے

ہجر کی رات اور اتنی روشن

عمریں بیتیں صدیاں گزریں

ہے وہی اب تک عشق کا بچپن

تجھ سا حسیں اور خون محبت

وہم ہے شاید سرخی دامن

برق حوادث اللہ اللہ

جھوم رہی ہے شاخ نشیمن

تو نے سلجھ کر گیسوئے جاناں

اور بڑھا دی شوق کی الجھن

رحمت ہوگی طالب عصیاں

رشک کرے گی پاکئ دامن

دل کہ مجسم آئینہ ساماں

اور وہ ظالم آئینہ دشمن

بیٹھے ہم ہر بزم میں لیکن

جھاڑ کے اٹھے اپنا دامن

ہستئ شاعر اللہ اللہ

حسن کی منزل عشق کا مسکن

رنگیں فطرت سادہ طبیعت

فرش نشیں اور عرش نشیمن

کام ادھورا اور آزادی

نام بڑے اور تھوڑے درشن

شمع ہے لیکن دھندھلی دھندھلی

سایا ہے لیکن روشن روشن

کانٹوں کا بھی حق ہے کچھ آخر

کون چھڑائے اپنا دامن

چلتی پھرتی چھاؤں ہے پیارے

کس کا صحرا کیسا گلشن

About Jigar Moradabadi (جگر مراد آبادی)

جگر مراد آبادی (1890 – 1960) اردو اور فارسی کے شاعر اور بیسویں صدی کے مقبول ترین غزل گو شعرا میں سے تھے۔ 1958 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔

Read all poetry by Jigar Moradabadi

More Urdu poetry by Jigar Moradabadi