Prof. Syed Mujahid Sajjad

وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ

جگر مراد آبادی

کلیاتِ جگر

Published 14 October 2026

وہ ادائے دلبری ہو کہ نوائے عاشقانہ

جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ

کبھی حسن کی طبیعت نہ بدل سکا زمانہ

وہی ناز بے نیازی وہی شان خسروانہ

یہ ترا جمال کامل یہ شباب کا زمانہ

دل دشمناں سلامت دل دوستاں نشانہ

یہ فلک یہ ماہ و انجم یہ زمین یہ زمانہ

ترے حسن کی حکایت مرے عشق کا فسانہ

یہ ہے عشق کی کرامت یہ کمال شاعرانہ

ابھی منہ سے بات نکلی ابھی ہو گئی فسانہ

یہ مرا پیام کہنا تو صبا مودبانہ

کہ گزر گیا ہے پیارے تجھے دیکھے اک زمانہ

مجھے چاک جیب و دامن سے نہیں مناسبت کچھ

یہ جنوں ہی کو مبارک رہ و رسم عامیانہ

تجھے حادثات پیہم سے بھی کیا ملے گا ناداں

ترا دل اگر ہو زندہ تو نفس بھی تازیانہ

میں ہوں اس مقام پر اب کہ فراق و وصل کیسے

مرا عشق بھی کہانی ترا حسن بھی فسانہ

مری زندگی تو گزری ترے ہجر کے سہارے

مری موت کو بھی پیارے کوئی چاہیئے بہانہ

ترے عشق کی کرامت یہ اگر نہیں تو کیا ہے

کبھی بے ادب نہ گزرا مرے پاس سے زمانہ

تری دوری و حضوری کا یہ ہے عجیب عالم

ابھی زندگی حقیقت ابھی زندگی فسانہ

مرے ہم صفیر بلبل مرا تیرا ساتھ ہی کیا

میں ضمیر دشت و دریا تو اسیر آشیانہ

میں وہ صاف ہی نہ کہہ دوں جو ہے فرق مجھ میں تجھ میں

ترا درد درد تنہا مرا غم غم زمانہ

ترے دل کے ٹوٹنے پر ہے کسی کو ناز کیا کیا

تجھے اے جگرؔ مبارک یہ شکست فاتحانہ

جگر مراد آبادی

About Jigar Moradabadi (جگر مراد آبادی)

جگر مراد آبادی (1890 – 1960) اردو اور فارسی کے شاعر اور بیسویں صدی کے مقبول ترین غزل گو شعرا میں سے تھے۔ 1958 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔

Read all poetry by Jigar Moradabadi

More Urdu poetry by Jigar Moradabadi