Prof. Syed Mujahid Sajjad

دل گیا رونق حیات گئی

جگر مراد آبادی

کلیاتِ جگر

Published 14 October 2026

دل گیا رونق حیات گئی

غم گیا ساری کائنات گئی

دل دھڑکتے ہی پھر گئی وہ نظر

لب تک آئی نہ تھی کہ بات گئی

دن کا کیا ذکر تیرہ بختوں میں

ایک رات آئی ایک رات گئی

تیری باتوں سے آج تو واعظ

وہ جو تھی خواہش نجات گئی

ان کے بہلائے بھی نہ بہلا دل

رائیگاں سعئ التفات گئی

مرگ عاشق تو کچھ نہیں لیکن

اک مسیحا نفس کی بات گئی

اب جنوں آپ ہے گریباں گیر

اب وہ رسم تکلفات گئی

ہم نے بھی وضع غم بدل ڈالی

جب سے وہ طرز التفات گئی

ترک الفت بہت بجا ناصح

لیکن اس تک اگر یہ بات گئی

ہاں مزے لوٹ لے جوانی کے

پھر نہ آئے گی یہ جو رات گئی

ہاں یہ سرشاریاں جوانی کی

آنکھ جھپکی ہی تھی کہ رات گئی

جلوۂ ذات اے معاذ اللہ

تاب آئینۂ صفات گئی

نہیں ملتا مزاج دل ہم سے

غالباً دور تک یہ بات گئی

قید ہستی سے کب نجات جگرؔ

موت آئی اگر حیات گئی

جگر مراد آبادی

About Jigar Moradabadi (جگر مراد آبادی)

جگر مراد آبادی (1890 – 1960) اردو اور فارسی کے شاعر اور بیسویں صدی کے مقبول ترین غزل گو شعرا میں سے تھے۔ 1958 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔

Read all poetry by Jigar Moradabadi

More Urdu poetry by Jigar Moradabadi