Prof. Syed Mujahid Sajjad

آئی جب ان کی یاد تو آتی چلی گئی

جگر مراد آبادی

کلیاتِ جگر

Published 14 October 2026

آئی جب ان کی یاد تو آتی چلی گئی

ہر نقش ماسوا کو مٹاتی چلی گئی

ہر منظر جمال دکھاتی چلی گئی

جیسے انہیں کو سامنے لاتی چلی گئی

ہر واقعہ قریب تر آتا چلا گیا

ہر شے حسین تر نظر آتی چلی گئی

ویرانۂ حیات کے ایک ایک گوشہ میں

جوگن کوئی ستار بجاتی چلی گئی

دل پھنک رہا تھا آتش ضبط فراق سے

دیپک کو مے گسار بناتی چلی گئی

بے حرف و بے حکایت و بے ساز و بے صدا

رگ رگ میں نغمہ بن کے سماتی چلی گئی

جتنا ہی کچھ سکون سا آتا چلا گیا

اتنا ہی بے قرار بناتی چلی گئی

کیفیتوں کو ہوش سا آتا چلا گیا

بے کیفیوں کو نیند سی آتی چلی گئی

کیا کیا نہ حسن یار سے شکوے تھے عشق کو

کیا کیا نہ شرمسار بناتی چلی گئی

تفریق حسن و عشق کا جھگڑا نہیں رہا

تمئیز قرب و بعد مٹاتی چلی گئی

میں تشنہ کام شوق تھا پیتا چلا گیا

وہ مست انکھڑیوں سے پلاتی چلی گئی

اک حسن بے جہت کی فضائے بسیط میں

اڑتی گئی مجھے بھی اڑاتی چلی گئی

پھر میں ہوں اور عشق کی بیتابیاں جگرؔ

اچھا ہوا وہ نیند کی ماتی چلی گئی

About Jigar Moradabadi (جگر مراد آبادی)

جگر مراد آبادی (1890 – 1960) اردو اور فارسی کے شاعر اور بیسویں صدی کے مقبول ترین غزل گو شعرا میں سے تھے۔ 1958 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔

Read all poetry by Jigar Moradabadi

More Urdu poetry by Jigar Moradabadi