Prof. Syed Mujahid Sajjad

اللہ اگر توفیق نہ دے

جگر مراد آبادی

کلیاتِ جگر

Published 14 October 2026

اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں

فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں

یہ تو نے کہا کیا اے ناداں فیاضی قدرت عام نہیں

تو فکر و نظر تو پیدا کر کیا چیز ہے جو انعام نہیں

یارب یہ مقام عشق ہے کیا گو دیدہ و دل ناکام نہیں

تسکین ہے اور تسکین نہیں آرام ہے اور آرام نہیں

کیوں مست شراب عیش و طرب تکلیف توجہ فرمائیں

آواز شکست دل ہی تو ہے آواز شکست جام نہیں

آنا ہے جو بزم جاناں میں پندار خودی کو توڑ کے آ

اے ہوش و خرد کے دیوانے یاں ہوش و خرد کا کام نہیں

زاہد نے کچھ اس انداز سے پی ساقی کی نگاہیں پڑنے لگیں

مے کش یہی اب تک سمجھے تھے شائستہ دور جام نہیں

عشق اور گوارا خود کر لے بے شرط شکست فاش اپنی

دل کی بھی کچھ ان کے سازش ہے تنہا یہ نظر کا کام نہیں

سب جس کو اسیری کہتے ہیں وہ تو ہے امیری ہی لیکن

وہ کون سی آزادی ہے یہاں جو آپ خود اپنا دام نہیں

جگر مراد آبادی

About Jigar Moradabadi (جگر مراد آبادی)

جگر مراد آبادی (1890 – 1960) اردو اور فارسی کے شاعر اور بیسویں صدی کے مقبول ترین غزل گو شعرا میں سے تھے۔ 1958 میں انھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا۔

Read all poetry by Jigar Moradabadi

More Urdu poetry by Jigar Moradabadi