Prof. Syed Mujahid Sajjad

آٹوگراف

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

کھلاڑیوں کے خود نوشت دستخط کے واسطے

کتابچے لئے ہوئے

کھڑی ہیں منتظر حسین لڑکیاں

ڈھلکتے آنچلوں سے بےخبر حسین لڑکیاں

مہیب پھاٹکوں کے ڈولتےکواڑ چیخ اٹھے

ابل پڑے الجھتے بازوؤں چٹختی پسلیوں کے

پُر ہراس قافلے

گرے، بڑھے، مُڑے بھنور ہجوم کے

کھڑی ہیں یہ بھی راستے پہ اک طرف

بیاضِ آرزو بکف

نظر نظر میں نارسا پرستشوں کی داستاں

لرز رہا ہے دم بہ دم

کمان ابرواں کا خم

کوئی جب ایک نازِ بےنیاز سے

کتابچوں پہ کھینچتا چلا گیا

حروفِ کج تراش کی لکیر سی

تو تھم گئیں لبوں پہ مسکراہٹیں شریر سی

کسی عظیم شخصیت کی تمکنت

حنائی اگلیوں میں کانپتے ورق پہ جھک گئی

تو زرنگار پلوؤں سے جھانکتی کلائیوں کی تیز

نبض رُک گئی

وہ باؤلر ایک مہ وشوں کے جمگھٹوں میں گھر گیا

وہ صفحہِ بیاض پر بصد غرورکلکِ گوہروں پھری

حسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گری

میں اجنبی میں بے نشاں

میں پا بہ گل !

نہ رفعتِ مقام ہے نہ شہرتِ دوام ہے

یہ لوحِ دل ۔۔۔۔۔ یہ لوحِ دل !

نہ اس پہ کوئی نقش ہے نہ اس پہ کوئی نام ہے

مجید امجد

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad