Prof. Syed Mujahid Sajjad

کہانی ایک ملک کی

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

راج محل کے دروازے پر

آکے رکی اک کار

پہلے نکلا بھدا، بے ڈھب، بودا،

میل کچل کا تودا

حقہ تھامے اک میراسی،

عمر اس کی کوئی اسی بیاسی

پیچھے اس کا نائب، تمباکو بردار،

باہر رینگے اس کے بعد قطار ، قطار

عنبریار

نمبردار

ساتھ سب ان کے دم چھلے

ایم ایل اے

راج محل کے اند اک اک رتناسن پر

کوڑھی جسم اور نوری جامے

روگی ذہن اور گردوں پیچ عمامے

جہل بھرے علامے

ماجھے، گامے،

بیٹھے ہیں اپنی مٹھی میں تھامے

ہم مظلوموں کی تقدیروں کے ہنگامے

جیبھ پہ شہد – اور جیب میں چاقو

نسل ہلاکو،

راج محل کے باہر ، سوچ میں ڈوبے شہر اور گاؤں

ہل کی انی، فولاد کے پنجے،

گھومتے پہیے، کڑیل باہیں،

کتنے لوگ کہ جن کی روحوں کو سندیسے بھیجیں

سکھ کی سیجیں

لیکن جو ہر راحت کو ٹھکرائیں

آگ پییں اور پھول کھلائیں

مجید امجد

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad