Prof. Syed Mujahid Sajjad

کیا سوچتے ہو

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

کیا سوچتے ہو، پھولوں کی رت بیت گئی، رُت بیت گئی​

وہ رات گئی، وہ بات گئی، وہ ریت گئی، رُت بیت گئی​

​

اک لہر اٹھی اور ڈوب گئے ہونٹوں کے کنول۔ آنکھوں کے دئے​

اک گونجتی آبدھی وقت کی بازی جیت گئی، رُت بیت گئی​

​

تم آگئے میری باہوں میں، کونین کی پینگیں جھول گئیں​

تم بھول گئے، جینے کی جگت سے ریت گئی، رُت بیت گئی​

​

پھر تہر کے میرے اشکوں میں گلپوش زمانے لوٹ چلے​

پھر چھیڑ کے دل میں ٹیسوں کے سنگیت گئی، رُت بیت گئی​

​

اک دھیان کے پاؤں ڈول گئے، اک سوچ نے بڑھ کر تھام لیا​

اک آس ہنسی، اک یاس سنا کر گیت گئی، رُت بیت گئی​

​

یہ لالہ و گل کیا پوچھتے ہو، سب لطفِ نظر کا قصّہ ہے​

رُت بیت گئی جب دل سے کسی کی پیت گئی، رُت بیت گئی​

​

مجید امجد​

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad