Prof. Syed Mujahid Sajjad

روش روش پہ ہیں

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

روش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھول

حسیں گلاب کے پھول، ارغواں گُلاب کے پھول

اُفق اُفق پہ زمانوں کی دُھند سے اُبھرے

طّیور، نعمے، ندی، تتلیاں، گلاب کے پھول

کس انہماک سے بیٹھی کشید کرتی ہے

عروسِ گُل بہ قبائے جہاں، گلاب کے پھول

جہانِ گریۂ شبنم سے کس غرور کے ساتھ

گزر رہے ہیں، تبسّم کناں، گلاب کے پھول

یہ میرا دامنِ صد چاک، یہ ردائے بہار

یہاں شراب کے چھینٹے، وہاں گلاب کے پھول

کسی کا پھول سا چہرہ اور اس پہ رنگ افروز

گندھے ہوئے بہ خمِ گیسواں، گلاب کے پھول

خیالِ یار ! ترے سلسلے نشوں کی رُتیں

جمالِ یار ! تری جھلکیاں گلاب کے پھول

مری نگاہ میں دورِ زماں کی ہر کروٹ

لہو کی لہر، دِلوں کا دھواں، گلاب کے پھول

سلگتے جاتے ہیں چُپ چاپ ہنستے جاتے ہیں

مثالِ چہرہِ پیغمبراں گلاب کے پھول

یہ کیا طلسم ہے یہ کس کی یاسمیں باہیں

چھڑک گئی ہیں جہاں در جہاں گلاب کے پھول

کٹی ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجد

مری لحد پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول

مجید امجد

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad