Prof. Syed Mujahid Sajjad

جانے اس روزن میں بیٹھے بیٹھے

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

جانے اس روزن میں بیٹھے بیٹھے

تو کس دھیان میں تیری چڑیا اے ری چڑیا

بیٹھے بیٹھے تو نے کتنی لاج سے دیکھا

پیتل کے اس اک تل کو جو تیری ناک میں ہے

اپنی پت پر یوں مت ریجھ خبر ہے باہر

اک اک ڈاین آنکھ کی پتلی تیری تاک میں ہے

تجھ کو یوں چمکارنے والوں میں ہے اک جگ تیرا بیری

چڑیا اے ری چڑیا

بھولی تو یوں اڑتی پنکھ جھپکتی

یہاں کہاں آ ٹھہری چڑیا اے ری چڑیا

یہ تو میرے دل کا پنجرا ہے تو اس میں

اپنی ٹوٹی پھوٹی خوشیاں ڈھونڈنے آئی ہے

پگلی یہاں تو ہے ہیرے کی کنی کا چوگا

اور اک زخمی سانس اس پنجرے کی انگنائی ہے

اڑ اور مہکی ہوئی بن بیلڑیوں میں

جا چن اپنی لے ری چڑیا اے ری چڑیا

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad