اپنے دل میں ڈر ہو تو یہ بادل کس کو لبھا سکتے ہیں
کلیاتِ مجید امجد
Published 14 October 2026
اپنے دل میں ڈر ہو تو یہ بادل کس کو لبھا سکتے ہیں
اپنے دل میں ڈر ہو تو سب رتیں ڈراؤنی لگتی ہیں اور اپنی طرف ہی گردن
جھک جاتی ہے
یہ تو اپنا حوصلہ تھا
اتنے اندیشوں میں بھی
نظریں اپنی جانب نہیں اٹھیں اور اس گھنگھور گھنے کہرے میں جا ڈوبی ہیں
اور اب میری ساری دنیا اس کہرے میں نہائی ہوئی ہریاول کا حصہ ہے
میری خوشیاں بھی اور ڈر بھی
اور اسی رستے پر میں نے لوہے کے حلقوں میں
اک قیدی کو دیکھا
آہن چہرہ سپاہی کی جرسی کا رگ اس قیدی کے رخ پر تھا
ہر اندیشہ تو اک کنڈی ہے جو دل کو اپنی جانب کھینچ کے رکھتی ہے اور وہ قیدی بھی
کھچا ہوا تھا اپنے دل کے خوف کی جانب جس کی کوئی رت نہیں ہوتی
میں بھی اپنے اندیشوں کا قیدی ہوں لیکن اس قیدی کے اندیشے تو
اک میرے سوا سب کے ہیں
اک وہی اپنے اپنے دکھ کی کنڈی
جس کے کھچاؤ سے اک اک گردن اپنی جانب جھکی ہوئی ہے
ایسے میں اب کون گھٹاؤں بھری اس صبح بہاراں کو دیکھے گا
جو ان بور لدے اندیشوں پر یوں جھکی ہوئی ہے آموں کے باغوں میں
مری روح کے سامنے
About Majeed Amjad (مجید امجد)
مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔