Prof. Syed Mujahid Sajjad

تو پریم مندر کی پاک دیوی تو حسن کی مملکت کی رانی

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

تو پریم مندر کی پاک دیوی تو حسن کی مملکت کی رانی

حیات انساں کی قسمتوں پر تری نگاہوں کی حکمرانی

جہان الفت تری قلمرو حریم دل تیری راجدھانی

بہار فطرت ترے لب لعل گوں کی دوشیزہ مسکراہٹ

نظام کونین تیری آنکھوں کے سرخ ڈوروں کی تھرتھراہٹ

فروغ صد کائنات تیری جبین سیمیں کی ضو فشانی

بھڑکتے سینوں میں بس رہی ہیں قرار بن کر تری ادائیں

ترستی روحوں کو جام عشرت پلا رہی ہیں تری وفائیں

رگ جہاں میں تھرک رہی ہے شراب بن کر تری جوانی

دماغ پروردگار میں جو ازل کے دن سے مچل رہا تھا

زبان تخلیق دہر سے بھی نہ جس کا اظہار ہو سکا تھا

نمود تیری اسی مقدس حسیں تخیل کی ترجمانی

ہے وادی نیل پر ترا ابر زلف سایہ کناں ابھی تک

ہیں جام ایراں کی مے میں تیرے لبوں کی شیرینیاں ابھی تک

فسانہ گو ہے تری ابھی تک حدیث یوناں کی خوں چکانی

ہے تیری الفت کے راگ پر موج رود گنگا کو وجد اب تک

تری محبت کی آگ میں جل رہا ہے صحرائے نجد اب تک

جمال زہرہ ترے ملائک فریب جلووں کی اک نشانی

تری نگاہوں کے سحر سے گل فشاں ہے شعر و ادب کی دنیا

ترے تبسم کے کیف سے ہے یہ غم کی دنیا طرب کی دنیا

ترے لبوں کی مٹھاس سے شکریں ہے زہراب زندگانی

ترا تبسم کلی کلی میں ترا ترنم چمن چمن میں

رموز ہستی کے پیچ و خم تیرے گیسوؤں کی شکن شکن میں

کتاب تاریخ زندگی کے ورق ورق پر تری کہانی

جو تو نہ ہوتی تو یوں درخشندہ شمع بزم جہاں نہ ہوتی

وجود ارض و سما نہ ہوتا نمود کون و مکاں نہ ہوتی

بشر کی محدودیت کی خاطر ترستی عالم کی بیکرانی

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad