Prof. Syed Mujahid Sajjad

بنے یہ زہر ہی وجہ شفا جو تو چاہے

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

بنے یہ زہر ہی وجہ شفا جو تو چاہے

خرید لوں میں یہ نقلی دوا جو تو چاہے

یہ زرد پنکھڑیاں جن پر کہ حرف حرف ہوں میں

ہوائے شام میں مہکیں ذرا جو تو چاہے

تجھے تو علم ہے کیوں میں نے اس طرح چاہا

جو تو نے یوں نہیں چاہا تو کیا جو تو چاہے

جب ایک سانس گھسے ساتھ ایک نوٹ پسے

نظام زر کی حسیں آسیا جو تو چاہے

بس اک تری ہی شکم سیر روح ہے آزاد

اب اے اسیر کمند ہوا جو تو چاہے

ذرا شکوہ دوعالم کے گنبدوں میں لرز

پھر اس کے بعد تیرا فیصلہ جو تو چاہے

سلام ان پہ تہ تیغ بھی جنہوں نے کہا

جو تیرا حکم جو تیری رضا جو تو چاہے

جو تیرے باغ میں مزدوریاں کریں امجدؔ

کھلیں وہ پھول بھی اک مرتبہ جو تو چاہے

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad