Prof. Syed Mujahid Sajjad

فرنگی جریدوں کے اوراق رنگین

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

فرنگی جریدوں کے اوراق رنگین

ہنستی، لچکتی، دھڑکتی، لکیریں

کٹیلے بدن تیغ کی دھار جیسے!

لہو رس میں گوندھے ہوئے جسم، ریشم کے انبار جیسے!

نگہ جن پہ پھسلے، وہ شانے وہ باہیں

مدور اٹھانیں، منور ڈھلانیں،

ہر اک نقش میں زیست کی تازگی ہے

ہر اک رنگ سے کھولتی آرزوؤں کی آنچ آ رہی ہے!

خطوط برہنہ کے ان آئینوں میں

حسیں پیکروں کے شفاف خاکے

کہ جن کے سجل روپ میں کھیلتی ہیں

وہ خوشیاں جو صدیوں سے بوجھل کے اوجھل رہی ہیں!

انہیں پھونک دے گی بے مہر دنیا

فرنگی جریدوں کے اوراق رنگین

کو اک بار حسرت سے تک لو

پھر ان کو حفاظت سے اپنے دلوں کے مقفل درازوں میں رکھ لو!

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad