Prof. Syed Mujahid Sajjad

کاش میں تیرے بن گوش میں بندا ہوتا

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

کاش میں تیرے بن گوش میں بندا ہوتا

رات کو بے خبری میں جو مچل جاتا میں

تو ترے کان سے چپ چاپ نکل جاتا میں

صبح کو گرتے تری زلفوں سے جب باسی پھول

میرے کھو جانے پہ ہوتا ترا دل کتنا ملول

تو مجھے ڈھونڈھتی کس شوق سے گھبراہٹ میں

اپنے مہکے ہوئے بستر کی ہر اک سلوٹ میں

جوں ہی کرتیں تری نرم انگلیاں محسوس مجھے

ملتا اس گوش کا پھر گوشۂ مانوس مجھے

کان سے تو مجھے ہرگز نہ اتارا کرتی

تو کبھی میری جدائی نہ گوارا کرتی

یوں تری قربت رنگیں کے نشے میں مدہوش

عمر بھر رہتا مری جاں میں ترا حلقہ بگوش

کاش میں تیرے بن گوش میں بندا ہوتا

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad