کس نے دروازہ کھٹکھٹایا ہے
کلیاتِ مجید امجد
Published 14 October 2026
کس نے دروازہ کھٹکھٹایا ہے
جا کے دیکھوں تو کون آیا ہے
کون آیا ہے میرے دوارے پر
رات آئی کہاں بچارے پر
میرے چھپر سے ٹیک کر کاندھا
کون استادہ ہے تھکا ماندہ
میری کٹیا میں آؤ سستا لو
یہ مرا ساغر شکستہ لو
میری چھاگل سے گھونٹ پانی پیو
اک نئے عزم کی جوانی پیو
ٹمٹماتے دیے کی جھلمل میں
جوت سلگا لو اک نئی دل میں
یہ مرے آنسوؤں کی شبنم لو
پاؤں کے آبلوں کی مرہم لو
یہ مجھے افتخار دو بیٹھو
سر سے گٹھڑی اتار دو بیٹھو
میرے زانو پر اپنا سر رکھ کر
طاق پر کاہش سفر رکھ کر
نیند کی انجمن میں کھو جاؤ
منزلوں کے سپن میں کھو جاؤ
خواب وادی و کہسار کے خواب
دشت و دریا و آبشار کے خواب
خواب اندھیری طویل راہوں کے
کنج صحرا کی خیمہ گاہوں کے
جہاں اک شمع ابھی فروزاں ہے
جہاں اک دل تپاں ہے سوزاں ہے
تم لپٹ جاؤ ان خیالوں سے
اور میں کھیلوں تمہارے بالوں سے
صبح جب نور کا فسوں برسے
سونی پگڈنڈیوں پہ خوں برسے
باگ تھامے حسیں ارادوں کی
تم خبر لو پھر اپنے جادوں کی
جب تلک زیست کا سفینہ بہے
اجنبی اجنبی کو یاد رہے
مجھ کو یہ اپنی یاد دے جاؤ
آؤ بھی کیوں جھجھکتے ہو آؤ
تم کہاں ہو کہاں جواب تو دو
او مرے میہماں جواب تو دو
تم نے دروازہ کھٹکھٹایا تھا
کس کی دستک تھی کون آیا تھا
نیم شب قافلے ستاروں کے
تیز ہرکارے ابر پاروں کے
کس نے نیندوں کو میری ٹوکا تھا
کوئی جھونکا تھا کوئی دھوکا تھا
About Majeed Amjad (مجید امجد)
مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔