اتنے بڑے نظام میں صرف اک میری ہی نیکی سے کیا ہوتا ہے
کلیاتِ مجید امجد
Published 14 October 2026
اتنے بڑے نظام میں صرف اک میری ہی نیکی سے کیا ہوتا ہے
میں تو اس سے زیادہ کر ہی کیا سکتا ہوں
میز پر اپنی ساری دنیا
کاغذ اور قلم اور ٹوٹی پھوٹی نظمیں
ساری چیزیں بڑے قرینے سے رکھ دی ہیں
دل میں بھری ہوئی ہیں اتنی اچھی اچھی باتیں
ان باتوں کا دھیان آتا ہے تو یہ سانس بڑی ہی بیش بہا لگتی ہے
مجھ کو بھی تو کیسی کیسی باتوں سے راحت ملتی ہے
مجھ کو اس راحت میں صادق پا کر
سارے جھوٹ مری تصدیق کو آ جاتے ہیں
ایک اگر میں سچا ہوتا
میری اس دنیا میں جتنے قرینے سجے ہوئے ہیں
ان کی جگہ بے ترتیبی سے پڑے ہوئے کچھ ٹکڑے ہوتے
میرے جسم کے ٹکڑے کالے جھوٹ کے اس چلتے آرے کے نیچے
اتنے بڑے نظام سے میری اک نیکی ٹکرا سکتی تھی
اگر اک میں ہی سچا ہوتا
About Majeed Amjad (مجید امجد)
مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔