اوروں کی کیا کہیے خود میرا دل بھی انگاروں کا مطبخ ہے
کلیاتِ مجید امجد
Published 14 October 2026
اوروں کی کیا کہیے خود میرا دل بھی انگاروں کا مطبخ ہے
سدا مری آنکھوں میں اک وہ کشش دہکتی ہے جو
سب کو اپنی جانب کھینچ کر میرے وار کی زد میں لے آتی ہے
سب کچھ میری طلب کی تشنگیوں کے دہانے پر ہے
انگاروں کے اس مطبخ میں گرنے کو ہے
گاڑھا لجز لہو اک وہ کیلوس جو انگاروں کا استحالہ ہے
اس میرے دل کی کالی قوت ہے میں جس کے پس میں ہوں
یہ قوت مجھ سے کہتی ہے
دیکھ مرے انگارے میری تڑپ کا رنگ ہیں اب کچھ تو ان کی خاطر بھی
اور انگارے اگلتی سانسوں کے ساتھ اب میں
اس دنیا کے اندر اپنے شکار کی تلاش میں
اک اک روح کی گھات میں
اک اک روح کے سامنے سوالی بن کے کھڑا ہوں
میرے دل میں انگاروں کے دندانے پیہم جڑتے اور کھلتے ہیں
باہر کسی کرم کی بناوٹ میں ہونٹ ایک اونکھا ٹھہرا ٹھہرا ٹیڑھا زاویہ سا ہیں
کوئی مجھے اب پہچانے گا
کس طرح ہنس ہنس کر مجھ سے ملتی ہے دنیا بد بخت
About Majeed Amjad (مجید امجد)
مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔