Prof. Syed Mujahid Sajjad

جو دل نے کہہ دی ہے وہ بات ان کہی بھی نہ تھی

مجید امجد

کلیاتِ مجید امجد

Published 14 October 2026

جو دل نے کہہ دی ہے وہ بات ان کہی بھی نہ تھی

یہ موج تو تہ دریا کبھی رہی بھی نہ تھی

جھکیں جو سوچتی پلکیں تو میری دنیا کو

ڈبو گئی وہ ندی جو ابھی بہی بھی نہ تھی

سرک گیا کوئی سایا سمٹ گیا کوئی دور

کسی کے عکس کی پیاسی کشش سہی بھی نہ تھی

سنی جو بات کوئی ان سنی تو یاد آیا

وہ دل کہ جس کی کہانی کبھی کہی بھی نہ تھی

نگر نگر وہی آنکھیں پس زماں پس در

مری خطا کی سزا عمر گمرہی بھی نہ تھی

کسی کی روح تک اک فاصلہ خیال کا تھا

کبھی کبھی تو یہ دوری رہی سہی بھی نہ تھی

نشے کی رو میں یہ جھلکا ہے کیوں نشے کا شعور

اس آگ میں تو کوئی آب آگہی بھی نہ تھی

غموں کی راکھ سے امجدؔ وہ غم طلوع ہوئے

جنہیں نصیب اک آہ سحر گہی بھی نہ تھی

About Majeed Amjad (مجید امجد)

مجید امجد (1914 – 1974) پاکستان کے اردو شاعر تھے اور جدید اردو نظم کے اہم ترین ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔

Read all poetry by Majeed Amjad

More Urdu poetry by Majeed Amjad